قزاقوں نے بحری جہاز اغواء کر لیا

Submitted on Wed, 03/15/2017 - 10:54

بحری قزاقوں نے صومالیہ کے ساحل کے قریب سے تیل سے بھرے ایک بحری جہاز کو اغوا کر کے اس میں سوار 8 ملاحوں کو یرغمال بنا لیا۔ 2012 کے بعد اس سمندری راہداری میں بحری قزاقوں کی یہ پہلی بڑی کارروائی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق صومالیہ کے ساحل کے قریب بحری قزاقوں نے 'ایریس 13' نامی بحری جہاز کو اغوا کر لیا جس میں بڑی مقدار میں خام تیل بھرا ہوا ہے۔ ایریس 13 کے اغوا کو گلوبل شپنگ انڈسٹری کے ماہرین حیران کن قرار دے رہے ہیں کیوں کہ اہم سمندری راہداریوں پر نیٹو ممالک، چین، بھارت اور ایران وغیرہ کی بحریہ مسلسل گشت کرتی رہتی ہیں اور انہوں نے گزشتہ کئی برسوں سے صومالی قزاقوں کو کوئی جہاز اغوا نہیں کرنے دیا ہے۔ تاہم اقوام متحدہ نے گزشتہ برس اکتوبر میں خبردار کیا تھا کہ صومالی قزاق دوبارہ حملہ آور ہونے کا ارادہ اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اوشنز بیانڈ پائریسی کے ڈائریکٹر جان اسٹیڈ نے بتایا کہ 'ایریس 13 نامی جہاز میں 8 ملاح موجود تھے جن کا تعلق سری لنکا سے ہے اور یہ بحری جہاز جبوتی سے تیل لے کر صومالیہ کے دارالحکومت موغادیشو جا رہا تھا اور اسی دوران اسے مسلح افراد نے ہائی جیک کر لیا'۔ صومالیہ کی نیم خودمختار ریاست پونٹ لینڈ کے ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تقریباً دو درجن کے قریب لوگ صومالیہ کے شمالی ساحل کے قریب جہاز پر سوار ہوئے۔ صومالیہ کے قصبے الولہ کے ایک مقامی باشندے سلاد نور نے بتایا کہ پیر کے روز جہاز کو ہائی جیک کیا گیا تھا اور منگل کو اسے الولہ کے ساحل پر لنگر انداز کر دیا گیا اور اب مزید مسلح افراد اس پر سوار ہو چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں موجود اس معاملے سے واقف ایک عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب تک قزاقوں کی جانب سے کسی قسم کے تاوان کا مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز کے کیپٹن نے کمپنی کو رپورٹ کیا تھا کہ مسلح افراد نے جہاز کو ہائی جیک کر لیا ہے جبکہ اس کے فوراً بعد اس کی سمت تبدیل کر دی گئی اور اب یہ لنگر انداز کیا جا چکا ہے۔ صومالیہ کے قریب یورپین یونین نیول فورس آپریشن کے ترجمان فلائٹ لیفٹیننٹ لوئس ٹیگ کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں جبکہ بحرین میں موجود امریکی بحری بیڑے کی جانب سے اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ سری لنکا کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ شپنگ ایجنٹس سے رابطے میں ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جاسکیں اور عملے کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اقوام متحدہ کی شپنگ ڈیٹا بیس کے مطابق ایریس 13 بحری جہاز ارمی شپنگ ایس اے نامی کمپنی کی ملکیت ہے جس کا پتہ ارورا شپ مینجمنٹ ایف زیڈ ای درج ہے جوکہ متحدہ عرب امارات کی ریاست فجیرہ میں رجسٹرڈ ہے۔ دوسری جانب 2014 کے بعد سے آسٹریلوی حکومت کے ریکارڈز کے مطابق جہاز متحدہ عرب امارات کی کمپنی فلیئر شپنگ ٹریڈنگ ایف زیڈ ای کی ملکیت ہے۔