اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی افادیت

Submitted on Wed, 03/15/2017 - 13:05

فضائی آلودگی سے اس وقت تمام دنیا پریشان ہے اور اس کی وجہ سے سانس، جلدی اور دیگر بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں لیکن سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اگر اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا استعمال بڑھایا جائے تو آلودگی کے منفی اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔ برطانوی اخبار ”دی انڈیپنڈنٹ“ نے ایک تازہ تحقیق کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگر ہم اپنے کھانوں میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کو شامل کر لیں تو آلودگی کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ مچھلی کے تیل، السی اور بھنگ میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ میساچوسیٹس جنرل ہسپتال میں ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اومیگا تھری سے جسمانی سوزش کے ساتھ آکسی ڈئیویٹ تناﺅ کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور آلودگی سے ہونے والے نقصان کو 30 سے 50 فی صد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ تحقیق کار ڈاکٹر جِنگ کانگ کا کہنا ہے کہ چوہوں پر کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ اومیگا تھری کی وجہ سے جسمانی سوزش میں کمی آتی ہے۔” انسانوں پر بھی اس کے ایسے ہی اثرات مرتب ہوں گے اور اگر ہم اپنی خوارک میں ایسی غذائیں شامل کر لیں جن میں اومیگا تھری پایا جائے تو فضائی آلودگی کے نقصانات کم کرنے میں مدد ملے گی۔“ اس کا کہنا ہے کہ نہ صرف فضائی آلودگی بلکہ آپ اومیگا تھری کی وجہ سے دیگر مسائل پربھی قابو پا سکتے ہیں۔ اس کا مزید کہنا تھا کہ دن میں دو سے چار گرام تک اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی مقدار صحت مند رہنے کے لئے کافی ہے۔” ہم فضائی آلودگی کو ایک دم ختم یا کم نہیں کر سکتے لیکن اس سے بچنے کے لئے تدابیر اختیار کر سکتے ہیں۔“ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک بری طرح متاثر ہو رہے ہیں جب کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ان کے نقصانات دیکھے جا سکتے ہیں۔ غیر صحت مند فضا کی وجہ سے دل اور پھیپھڑوں کی بیماری عام ہو رہی ہیں اور اب سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی وجہ سے دماغی مسائل بھی پیدا ہو رہے ہیں ۔